مجلس عاملہ

مجلس عاملہ کمپنی میں موثر کارکردگی کو یقینی بناتی ہے۔ کمیٹی کے اجلاس باقاعدگی سے ہوتے ہیں جس میں کمپنی کے مقرر کیے گئے اہداف کی سمت پیش رفت کا جائزہ لیا جاتا ہے ۔ کمیٹی کمپنی کے ہر کام میں مداخلت کا اختیار رکھتی ہے سوائے ان کاموں کے جن کا اختیار بورڈ آف ڈائریکٹرز کو کمپنیز آرڈیننس 1984 کے سیکشن 196 کے تحت حاصل ہیں۔

آڈٹ کمیٹی

آڈٹ کمیٹی کو تفویض کردہ اختیارات / آڈٹ کمیٹی کا دائرہ اختیار

آڈٹ کمیٹی کو دیے گئے اختیارات اسٹاک ایکسچینج میں درج کمپنی کے لیے موجود کوڈ آف کارپوریٹ گورنینس سے اخذ کیے گئے ہیں۔ اس طرح آڈٹ کمیٹی دیگر معاملات کے ساتھ ساتھ بورڈ آف ڈائریکٹرز کو بیرونی آڈیٹرز کی تعیناتی کی سفارش کی بھی ذمہ دار ہے۔ کمپنی کے مالیاتی گوشواروں کو مرتب کرنے کے علاوہ کمپنی کے حصص یافتگان کی جانب سے آڈیٹرز کے مستعفی ہونے یا سبکدوش کرنے کے بارے میں سوال پر غور کرنے ، آڈٹیٹرز کی فیس، آڈیٹرز کو کمپنی کی جانب سے کوئی اورکام تفویض کرنابھی آڈٹ کمیٹی کی ذمہ داریوں میں شامل ہے۔ آڈٹ کمیٹی کی جانب سے کی گئی سفارشات کے خلاف اگر مضبوط دلائل نہیں ہیں تو بورڈ آف ڈائریکٹرز آڈٹ کمیٹی کی ان معاملات میں پیش کی گئی سفارشات کے مطابق عمل کرتا ہے۔

آڈٹ کمیٹی کو دیے گئے اختیارات میں مندرجہ ذیل نکات بھی شامل ہیں

کمپنی کے اثاثوں کی حفاظت کے لیے مناسب اقدامات کرنا .a

ابتدائی نتائج کی طباعت اور اعلانات سے قبل ان پر نظرثانی کرنا .b

کمپنی کے سہ ماہی، ششماہی اور سالانہ مالیاتی گوشواروں کی بورڈ آف ڈائریکٹر کی منظوری سے قبل جائزہ لینا جس میں مندرجہ ذیل امور کا خاص خیال رکھا گیا ہو .c

  • اہم فیصلوں سے متعلق معاملات

  • آڈٹ کے نتائج کے مطابق اہم چیزیں ترتیب دینا

  • مشق میں شامل معاملات اور اکاؤنٹنگ پالیسیوں میں اگر ضروری ہو تو تبدیلی لانا

  • قابل اطلاق اکاؤنٹنگ کے معیارات پر عملدرامد کروانا

  • اسٹاک ایکسچینج میں درج ہونے کے قواعد و ضوابط اور دیگر ریگولیٹری قواعد پر عملدرامد کروانا

بیرونی آڈیٹر کی معاونت کرنا اور عبوری و حتمی آڈٹ کے نتیجے میں سامنے آنے والی اہم مشاہدات پر مشاورت کرنا ۔ اس کے علاوہ ایسے معاملات پر گفتگو کرنا جو آڈیٹرز بطور خاص سامنے لانا چاہتے ہوں (انتظامیہ کی غیر موجودگی میں جہاں پر ضروری ہو)۔ .d

بیرونی آڈیٹروں کی جانب سے انتظامیہ کو جاری کردہ خطوط اور انتظامیہ کے جوابی خطوط کا جائزہ لینا .e

کمپنی کے اندرونی اور بیرونی آڈیٹروں کے مابین معاونت و رابطے کو یقینی بنانا .f

اندرونی آڈیٹر کے دائرہ کار کا جائزہ لینا اور اس امر کو یقینی بنانا کہ اندرونی آڈیٹروں کو کام کے لیے مناسب وسائل اور جگہ دستیاب ہو .g

کمپنی کے آڈیٹرزکے تفتیشی نتائج اور ان پر انتظامیہ کے جواب پر غور کرنا .h

اس امر کا پتہ لگانا کہ اندرونی کنٹرول سسٹم جس میں مالیاتی اور انتظامی کنٹرول، اکاؤنٹنگ سسٹم اور رپورٹنگ اسٹرکچر شامل ہیں، درست اورموثر طریقے سے کام کررہے ہیں۔ .i

بورڈ آف ڈائریکٹرز کی منظوری سے قبل اندرونی کنٹرول کے نظام پر کمپنی کے بیان کا جائزہ لینا .j

چیف ایگزیکٹو کی مشاورت سے بڑے منصوبوں کے قیام ، مالیاتی مطالعوں کی قدر کا جائزہ لینا یا بورڈ آف ڈائریکٹرز کی جانب سے تفویض کردہ کسی اور معاملے پر تحقیقات کرنا۔ بیرونی آڈیٹر زکے کسی دوسرے موضوع یا کسی دوسرے بیرونی ادارے کے معاملات پر غور کرنا۔ .k

قانونی ضروریات کے مطابق عملدرامد کروانا .l

کارپوریٹ گورنینس کے بہترین اصولوں پر عملدرامد کی نگرانی کرنا اور اگر کوئی اہم خلاف ورزی ہورہی ہو تو اس کی نشاندہی کرنا اور .m

بورڈ ّف ڈائریکٹرز کی جانب سے دیے گئے کسی کام یا معاملے پر غور کرنا .n

آڈٹ کمیٹی کوڈ آف کارپوریٹ گورنینس میں دی گئی صراحت کے مطابق بورڈ کی اس کی ذمہ داریوں کی ادائیگی میں معاونت کرے گی ۔

انسانی وسائل اور مشاہرہ (HR & R) کمیٹی

کوڈآف کارپوریٹ گورنینس کی شق XXV کو مدنظر رکھتے ہوئے 2012 میں انسانی وسائل اور مشاہرہ(HR&R) کمیٹی تشکیل دی گئی۔ مذکورہ کمیٹی مندرجہ بالا تین افراد پر مشتمل ہے۔

انسانی وسائل اور مشاہرہ(HR&R) کمیٹی کو تفویض کردہ اختیارات

بورڈ کو انسانی وسائل کے انصرام کے حوالے سے سفارشات پیش کرنا (i

بورڈ کو چیف ایگزیکٹو آفیسر کے انتخاب، قدر کا اندازہ لگانا، مشاہرہ بشمول بعد از ریٹائرمنٹ فوائد اور چیف ایگزیکٹو آفیسر کے جانشین کی منصوبہ کے بارے میں سفارشات پیش کرنا۔ (ii

بورڈ کو چیف ایگزیکٹو آفیسر ، چیف فنانشیل آفیسر ، کمپنی سیکریٹری اور انٹرنل آڈیٹر کے انتخاب، قدر کا اندازہ لگانا،مشاہرہ بشمول بعد از ریٹائرمنٹ فوائد کے بارے میں سفارشات پیش کرنا۔ (iii

ایسے کلیدی مناصب کے بارے میں جو براہ راست چیف ایگزیکٹو آفیسر کو جوابدہ ہیں، چیف ایگزیکٹو آفیسر کی جانب سے آنے والی سفارشات پر غور کرنا اور ان پر عملدرامد کرنا۔ (iv